ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شراوتی علاقے میں ریت کا مسئلہ مرکزی سرکار کی غلط پالیسی کا نتیجہ ہے :منکال وئیدیا

شراوتی علاقے میں ریت کا مسئلہ مرکزی سرکار کی غلط پالیسی کا نتیجہ ہے :منکال وئیدیا

Wed, 08 Feb 2017 11:50:20    S.O. News Service

ہوناور 7فروری (ایس او نیوز)بھٹکل اسمبلی حلقے کے رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے کہا ہے کہ ہر ایک مسئلے کے ایم ایل اے کو ذمہ دار ٹھہرانا بی جے پی والوں کا معمول بن گیا ہے۔ میں بی جے پی کے خلاف نہیں بولتا ہوں اور نہ ہی الزامات لگاتاہوں۔ مگر حقیقت بیان کرتا ہوں کہ شراوتی کے علاقے میں ریت کا جو مسئلہ سنگین ہوگیا ہے وہ مرکز ی حکومت کی غلط پالیسی کا نتیجہ ہے۔ اس کے لئے میں ذمہ دار نہیں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ شراوتی ندی سے ریت نکالنے کی اجازت نہیں ملنے کی وجہ سے کروڑوں روپے کا تعمیری کام رکا ہوا ہے۔ سرکارکے منظور شدہ منصوبوں کی تکمیل نہیں ہوپا رہی ہے۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ریت نکالنے کی اجازت دینے کے لئے سی آر زیڈ کمیٹی کی تشکیل ہونی چاہیے جو کہ مرکزی حکومت کو کرنی ہے۔ اور مرکزی حکومت نے ابھی تک اسے تشکیل نہیں دیا ہے۔حالانکہ گزشتہ تین مہینے قبل ہی ریاستی حکومت نے کمیٹی تشکیل دینے کے لئے مرکزی حکومت کو خط لکھا ہے۔اس کے باوجود اس ضمن میں ابھی تک کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے۔

منکال نے کہا کہ کینر اایم پی اننت کمار کو اس سلسلے میں دلچسپی لیتے ہوئے مرکزی حکومت پر دباؤ بناکر جلد سے جلد کمیٹی تشکیل دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔کم از کم اب تو ان کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ میں ان کے ساتھ وفد کی شکل میں دہلی تک جانے کے لئے بھی تیار ہوں۔کیونکہ میری کوشش تو بس یہ ہے کہ کوئی بھی ہو، اور کسی بھی پارٹی سے ہو، لیکن میرے علاقے کے عوام کو تکلیف نہ ہو۔میرے دور میں اس علاقے میں ضلع انچارج وزیر کے تعاون سے ترقی کے اتنے کام ہوئے ہیں کہ اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔

منکال وئیدیا نے کہا کہ شراوتی ندی سے ریت نکالنے پر پابندی لگانے کے لئے مہیش نائک جالولی نے ریاستی ہائی کورٹ میں پی آئی ایل داخل کی تھی۔ جس کے نتیجے میں ہائی کورٹ نے پابندی عائد کردی تھی۔لیکن ریاستی جیالوجی ڈپارٹمنٹ اور کان کنی محکمہ کے افسران نے کاروار میں ڈی سی سے ملنے کے بعد ہوناور پہنچ کر شراوتی ندی کے اطراف کے ماحول اور ندی کے اندر موجود ریت کے ذخائر کاجائزہ لینے بعد حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کی تھی اور ہائی کورٹ میں داخل کی گئی رٹ بھی واپس لی گئی ہے۔ اس طرح عدالتی پابندی کا مسئلہ ختم ہوچکا ہے۔جب سے یہ صورتحال سامنے آئی ہے میں نے اپنے طور پر ریت نکالنے کے اجازت نامے دلانے کے لئے پوری کوشش کی ہے۔خود دیشپانڈنے صاحب ریاستی اور مرکزی سطح پر کوشش کر رہے ہیں۔چونکہ ریت نکالنے کی اجازت دینے کا اختیار ریاستی اور ضلع سطح کی سی آر زیڈ کمیٹیوں کو ہوتا ہے۔ مگر ضلع کمیٹیاں 2.5ایکڑ سے زیادہ کے علاقے میں ریت نکالنے کی اجازت نہیں دے سکتیں۔اور شراوتی ندی کا علاقہ اس سے کافی بڑا ہے۔اس لئے یہاں پر ریت نکالنے کی اجازت دینے کا اختیار صرف مرکزی حکومت کی طرف سے تشکیل شدہ ریاستی کمیٹی کے پاس ہوتا ہے۔

منکال نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت یہ کمیٹی تشکیل دیتی ہے تو پھر دس دنوں کے اندر ریت نکالنے کے لائسنس دلوانا میر اکام ہے۔ورنہ اس مسئلہ پر کسی کے ساتھ بھی کھلے مباحثے کے لئے میں تیار ہوں۔


Share: